عمل: ٹھوس کو گرم کرنے سے ذرات کی حرکی توانائی (کائنیٹک انرجی) بڑھ جاتی ہے۔
طریقہ کار: ذرات تیزی سے حرکت کرنے لگتے ہیں یہاں تک کہ ان کے درمیان اٹریکٹیو فورسز کمزور ہو جاتی ہیں۔
نقطۂ پگھلاؤ (M.P.): وہ مخصوص درجہ حرارت جس پر ٹھوس پگھلنا شروع ہوتا ہے۔ نقطۂ پگھلاؤ پر: ذرات اپنی مخصوص جگہیں اور ترتیب کھو دیتے ہیں، ٹھوس پگھل کر مائع بن جاتا ہے۔
حرارت کا اثر: پگھلاؤ شروع ہونے کے بعد دی گئی حرارت درجہ حرارت نہیں بڑھاتی بلکہ ذرات کے درمیان کشش کی قوتوں کو توڑنے میں استعمال ہوتی ہے (مخفی حرارتِ پگھلاؤ – لیٹنٹ ہیٹ آف فیوزن)۔
مائع سے گیس میں تبدیلی (ابلنا): بخارات بننا: کسی بھی درجہ حرارت پر مائع کی سطح سے ذرات کا نکلنا۔ ابلنا: جب مائع کا بخارات کا دباؤ بیرونی (فضائی) دباؤ کے برابر ہو جائے تو بلبلے بننے لگتے ہیں۔
نقطۂ ابال (B.P.): وہ درجہ حرارت جس پر بخارات کا دباؤ = فضائی دباؤ۔ نقطۂ ابال پر: دی گئی حرارت مائع کو گیس میں تبدیل کرنے میں استعمال ہوتی ہے، اس دوران درجہ حرارت مستقل رہتا ہے۔
گیس سے مائع میں تبدیلی (کنڈنسیشن): عمل: گیس کو ٹھنڈا کرنے سے ذرات کی حرکی توانائی کم ہو جاتی ہے۔ طریقہ کار: ذرات کی رفتار کم ہوتی ہے، وہ قریب آتے ہیں اور کشش بڑھ جاتی ہے۔ مناسب درجہ حرارت پر: کشش کی قوتیں اتنے مضبوط ہو جاتی ہیں کہ گیس مائع میں بدل جاتی ہے۔ عملِ تکثیف کے دوران: درجہ حرارت مستقل رہتا ہے جب تک تمام گیس مائع میں تبدیل نہ ہو جائے۔
🔹 ترتیب یاد رکھیں: “ٹھوس – مائع – گیس” : حرارت بڑھنے سے Kinetic Energy بڑھتی ہے۔
🔹 مخفف M.P / B.P: Melting Point پر درجہ حرارت مستقل (Latent Heat جذب)۔ Boiling Point پر بھی درجہ حرارت مستقل۔
🔹 کنڈنسیشن کے لیے ٹھنڈک: توانائی کم ہو، قریب آئیں → مائع۔
🔹 ابلنے اور بخارات میں فرق: ابلنا (boiling) پورے مائع میں، بخارات صرف سطح سے۔
🔹 نکتہ یاد رکھیں: پگھلنے کے دوران دی گئی حرارت “پوشیدہ حرارت” کہلاتی ہے، درجہ حرارت نہیں بڑھتا۔